Friday, 21 August 2015

Allama Iqbal

Bachashme Man Jahan Juz Rahguzar Naist

بچشم من جہاں جز رہگزر نیست

ہزاراں رہرو و یک ہم سفر نیست
گذشتم از ہجوم خویش و پیوند
کہ از خویشاں کسے بیگانہ تر نیست

میری نظر میں دنیا ایک راستہ کے سوا کچھ نہیں
یہاں ہزاروں مسافر ہیں مگر ایک بھی ہم سفر نہیں ہے
میں عزیزوں اور دوستوں کے ہجوم سے گزر گیا
کیونکہ اپنوں سے بڑھ کر کوئی بیگانہ نہیں ہے


Allama Iqbal

Bedam Warsi

BJuz Tumhare Kahoon Kis Se Ya Ghareeb Nawaz
Suno Meri Mere Mushkil Kusha Ghareeb Nawaz

بجز تمھارے کہوں کس سے یا غریب نواز
سنو مری مرے مشکل کشا غریب نواز

تمہارے دامن عالی نے ہاتھ آتے ہی
بڑھا دیا ہے مرا حوصلہ غریب نواز

معین دین و عطائے رسولؐ والیَ ہند
امیر خواجہ گلگوں قبا غریب نواز

کہاں تک پھرے در در کی ٹھوکریں کھاتا
تمہارے در کا تمھارا گدا غریب نواز

سُنی ہے آپ کی بندہ نوازیوں کی دھوم
کبھی ادھر بھی نگاہ عطا غریب نواز

تمہارا ہوں میں تمہیں سے ہی التجا میری
تمہارے ہوتے کہوں کس سے یا غریب نواز

لحد میں روز قیامت میں دین دنیا میں
تمھارے نام کا ہے آسرا غریب نواز

تمہارے در کی گدائی ہے آبرو میری
تھماری دید مرا مدعا غریب نواز

ضیائے مجلس عرفاں نگار عالم قُدس
فضائے گلشنِ اِنی انا غریب نواز

کچھ اپنے بیدم خستہ کو بھی عطا کیجیے
سخی ہے آپ کی سرکار یا غریب نواز


Bedam Warsi